السلام علیکم ! مفتی صاحب ، میں زائد خان ہوں، امریکہ سے میرا ایک مسئلہ ہے ، میری شادی ایک غیر مسلم مطلب کرسچن عورت سے ہوئی ہے اور شادی کے بعد اس نے اسلام بھی قبول کر لیا ہے ، لیکن میرے والد صاحب نے ایک پریشانی پیدا کر دی ہے، وہ یہ ہے کہ جس سے میری شادی ہوئی ہے وہ جب پیدا ہوئی تھی تو اس کے والدین کر سچن تھے اور ان کی کر سچن طریقہ سے بھی شادی نہیں تھی اور بغیر کسی نکاح یا شادی کے ان کی یہ بیٹی پیدا ہوئی ہے، جس سے میں نے شادی کی۔ میرے والد صاحب کا کہنا ہے کہ اس سے تمہاری شادی نہیں ہو سکتی اور اس کا گناہ تمہاری ۷ نسلوں تک اٹھا رہے گا۔ برائے کرم اس کے بارے میں بتائیں اسلام کی روشنی میں بہت بہت مہربانی ۔
سائل کے والد کے بقول اگر مذکور لڑکی کے والدین کا نکاح کرسچن طریقے کے مطابق نہ بھی ہوا ہو، مگر مذکور لڑکی عیسائی مذهب پر قائم ہو، محض دہر یہ نہ ہو، تو سائل کا سابقہ نکاح درست منعقد ہو گیا ہے ، اب بلا وجہ شکوک و شبہات میں پڑنا درست نہیں ۔ تاہم اگر اس کا عیسائیت پر قائم ہونا مشکوک ہو، تو اب اسلام لانے کے بعد دوبارہ نکاح کرنا بہتر ہے۔
و في الدر المختار: (وصح نكاح كتابية) ، وإن كره تنزيها (مؤمنة بنبي) مرسل (مقرة بكتاب) منزل، وإن اعتقدوا المسيح إلها، وكذا حل ذبيحتهم على المذهب بحر. اھ (3/ 45)
و فيه ايضا: (الكفاءة معتبرة) في ابتداء النكاح للزومه أو لصحته (من جانبه) أي الرجل لأن الشريفة تأبى أن تكون فراشا للدنيء ولذا (لا) تعتبر (من جانبها) لأن الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش وهذا عند الكل في الصحيح اھ (3/ 84)