جماعت میں زیادہ وقت لگانے”چار ماہ“کی وجہ سے بیوی کو اگر شہوت کی ضرورت پڑے اور حد درجہ ہو، تو کیا وہ عورت کسی دوسرے سے اپنی ضرورت پوری کر سکتی ہے؟
شوہر چاہے تبلیغ یا جہاد وغیرہ کسی دینی سفر کی وجہ سے گھر سے باہرہو یا تجارت و ملازمت وغیرہ کسی دنیوی سفر کی وجہ سے، ہر صورت میں اس کی بیوی کا کسی اجنبی مرد سے شہوت پوری کرنے کے لئے تعلقات قائم کرنا زنا ہونے کی وجہ سے قطعاً حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، جس سے احتراز لازم ہے، اس حوالےسے جعلسازی کرکے دارالافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی کی طرف جو ایک فتویٰ منسوب کیا گیا ہے، اس کا ہمارے ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔
كمافي الدر المحتار: وفي الأشباه: الخلوة بالأجنبية حرام (إلى قوله) وفي الشرنبلالية معزيا للجوهرة: ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها لا يرد السلام عليها وإلا لا انتهى، اھ (6/ 368)
وفي الفقه الاسلامي: وأما المعاشرة قبل الزواج والذهاب معاً الى الأماكن العامة وغيرها فهو كله ممنوع شرعاً اھ (7/25)