نکاح

سیدہ لڑکی کا غیر سید لڑکے سے نکاح کرنا

فتوی نمبر :
33130
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

سیدہ لڑکی کا غیر سید لڑکے سے نکاح کرنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مجھے دریافت کرنا ہے کہ کیا ایک سیدہ لڑکی غیر سید کے ساتھ بیاہی جا سکتی ہے ؟ انکار کرنے والے قرآن مجید میں سورۂ نساء کی اس آیت کا سہارا لیتے ہیں جس کے مطابق عورتوں کو محکوم قرار دیا گیا ہے ، ان کے بقول ایک سیدہ کسی غیر سید کی محکوم نہیں ہو سکتی، قرآن و حدیث اور تاریخ ِاسلام کے حوالے سے جواب درکار ہے، الجھن رفع فرمائیے،عند اللہ ماجور ہوں۔ والسلام

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

لڑکے اور لڑکی کے درمیان کفاءت اور برابری کو شریعت مطہرہ نے ضروری قرار دیا ہے، چنانچہ اسی بناء پر ایک سیدہ لڑکی غیر سید لڑکے کی ہم پلہ اور برابر نہ ہونے کی وجہ سے ان کا آپس میں اپنی مرضی سے اولیاء کی اجازت کے بغیر اور مہر مثل سے کم پر نکاح کرنا درست نہیں، البتہ سیدہ لڑکی کے اولیاء بخوشی و رضا مندی غیر سید لڑکے سے اسکا نکاح کروادیں تو ایسی صورت میں ان کا نکاح بھی درست ہو جائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافي المبسوط للسرخسی: (قال:) وإذا تزوجت المرأة غير كفء فرضي به أحد الأولياء جاز ذلك۔اھ (5/26)
وفي الدر المختار: (ويفتى) في غير الكفء (بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (وفی رد المحتار، تحت) (قوله ويفتي في غير الكفء إلخ) قيد بذلك لئلا يتوهم عوده إلى قوله: فنفذ نكاح إلخ (3/56)
وفی الھدایة: ثم الكفاءة تعتبر في النسب لأنه يقع به التفاخر " فقريش بعضهم أكفاء لبعض۔اھ (2/320)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 33130کی تصدیق کریں
0     671
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات