السلام علیکم! میری والدہ میرا نکاح میرے ماموں کی بیٹی سے کروانا چاہتی ہے ، جبکہ مجھے پسند نہیں، میں نکاح کسی دینی معلمہ سے کرنا چاہتا ہوں، اس وجہ سے میری والدہ مجھ سے ناراض ہو گئی ہے ،کیا میں والدہ کی پسند سے نکاح کرلوں یا کسی دینی معلمہ سے ؟ گھر کے کچھ افراد کی رائے میری طرف اور کچھ کی رائے والدہ کی طرف ہے۔
سائل کیلئے اگر چہ اپنی پسند سے والدہ کی رضا مندی کے بغیر نکاح کرنا بھی شرعاً جائز اور درست ہے، مگر والدین کی اجازت و رضا مندی کے بغیر منعقد ہونےوالے رشتے عموماً ان کی دعاؤں سے محرومی کی بناء پر جدائی اور علیحدگی پرمنتج ہوتے ہیں، اس لئے شادی جیسے عظیم معاملے میں والدین کی رائے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے۔
کما في البحر الرائق: (قوله: وينعقد بإيجاب، وقبول وضعا للمضي أو أحدهما) أي ينعقد النكاح أي ذلك العقد الخاص ينعقد بالإيجاب والقبول اھ (3 /81)
وفي الهداية: ولا ينعقد نكاح المسلمين الا بحضور شاھدین حرین عاقلين بالغین مسلمین رجلین اور جل و امراتین عدولا کانو او غیر عدول اھ (2 /306)