غسل جنابت کا طریقہ برائے مرد اور خواتین بیان کریں۔
مرد ، عورت کے لیے غسلِ جنابت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ،سب سے پہلے گٹوں تک دونوں ہاتھ دھوئے ،پھر استنجاء کی جگہ دھوئے، ہاتھ اور استنجے کی جگہ پر نجاست ہو ، تب بھی اور نہ ہو تب بھی، ہر حال میں ان دونوں کو پہلے دھونا چاہیئے، پھر جہاں بدن پر نجاست لگی ہو ، اس کو پاک کرے ،پھر وضو کرے، جیسا کہ نماز کے لیے وضو کیا جاتا ہے، اس کے بعد تین مرتبہ اپنے سر پر پانی ڈالے، پھر تین مرتبہ داہنے کندھے پر، پھر تین مرتبہ بائیں کندھے پر پانی ڈالے، اسی طرح کہ سارے بدن پر پانی بہہ جائے، اگر عورت کے سر کے بال گندھے ہوئے نہ ہوں ، تو تمام بالوں کو بھگونا اور بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچانا فرض ہے، ایک بال بھی اگر سوکھا رہ گیا ،یا ایک بال کی جڑ میں بھی پانی نہیں پہنچا ، تو غسل نہ ہوگا، اور اگر بال گندھے ہوئے ہوں ، اور بالوں کو کھولے بغیر جڑوں میں پانی پہنچانا ممکن ہو ،تو صرف بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچانا کافی ہے، سب بالوں کو دھونا ضروری نہیں، اور اگر بالوں کو کھولے بغیر جڑوں میں پانی نہ پہنچ سکے ، تو بالوں کو کھولنا اور سب بالوں کو بھگونا بھی لازم ہے۔
ففی الهدایة: وفرض الغسل المضمضة والإستنشاق وغسل سائر البدن اھ (۱/ ۲۹)
وفی الدر المختار: (وسننه) كسنن الوضوء سوى الترتيب. (إلی قوله) (البداءة بغسل يديه وفرجه) وإن لم يكن به خبث اتباعا للحديث (وخبث بدنه إن كان) عليه خبث لئلا يشيع (ثم يتوضأ) أطلقه فانصرف إلى الكامل، فلا يؤخر قدميه (إلی قوله) (ثم يفيض الماء) على كل بدنه ثلاثا مستوعبا من الماء المعهود في الشرع للوضوء والغسل (بادئا بمنكبه الأيمن ثم الأيسر ثم رأسه) على (بقية بدنه مع دلكه) (1/ 159،157) واللہ اعلم