نکاح

والد کی زبردستی کے بعد لڑکی کا نکاح پر رضامندی ظاہر کرنا

فتوی نمبر :
31829
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

والد کی زبردستی کے بعد لڑکی کا نکاح پر رضامندی ظاہر کرنا

اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ وہ آپ کے جواب کے ذریعہ زندگی کے اس فیصلہ کن مرحلہ میں میری اور میری اہلیہ کی رہنمائی فرمائے (آمین)، چونکہ یہ ہمارا نجی معاملہ ہے، براہِ کرم اس کو کہیں شائع نہ فرمائیں ، ہندوستان سے ہمارا تعلق ہے،آٹھ سال پہلے ہماری شادی ہوئی، شادی سے پہلے میری اہلیہ کی زندگی میں ایک اہم واقعہ پیش آیا جس کے اثرات میں نے اپنی پوری ازدواجی زندگی میں محسوس کیے، اسکے کالج کے دنوں میں ایک غیر مسلم لڑکا اسکو ستانے لگا،جب اسکے والد کو پتہ چلا تو انہوں نے اسکو بہت مارا ، والد کے اس برتاؤ سے اور اس بات پر کہ انہوں نے اس پر بھروسہ نہ کیا اسے شدید صدمہ ہوا، بہرحال اسکے والد اسکے لئے رشتہ دیکھتے رہے، اور بالآخر مجھ سے رشتہ طے پایا اور نکاح کی تاریخ مقرر ہوئی، بقول اسکے وہ اس نکاح کے لئے راضی نہیں تھی، نہ اس کی رضا مندی لی گئی، اور نہ ہی اس نے اپنی ناپسند کا والد سے اظہار کیا،ا سکے والد کے ڈر سے اور یہ سوچ کر کہ جو بھی جیسا بھی ہے زندگی گزار لوں گی، اس نےنکاح کے پیپرز پر دستخط کیے، شادی کے بعد میری اہلیہ نے مجھے سب کچھ بتادیا، میں نے اسے تیقن دیا کہ جو ہوا سو ہوا، اب ہم نئی زندگی شروع کریں گے، ملازمت کے سلسلے میں میرا امریکہ جانا ہوا اور ایک سال بعد وہ بھی وہاں آگئی، انہی دنوں میں کسی موقع پر ہمارا سامنا میرے ایک دوست سے ہوا، اس وقت سے میری اہلیہ کے دل میں اس شخص کے لیے نرم گوشہ بنتا چلا گیا، مجھے اس تعلق کا کچھ پتا نہیں تھا ، تقریباً تین سال پہلے ہم ہندوستان واپس آگئے، ایک دن اچانک (شادی کے سات سال بعد) اس نے کہہ دیا کہ ہمارا جو رشتہ ہے وہ جائز نہیں ہے اور زبردستی سے کیا گیا ہے، اپنے استخارہ کی نماز پڑھی اور اسے دلیل کے ساتھ بتایا گیا کہ جو شخص تیرے نکاح میں ہے وہ تیری چیز نہیں ہے اور جس کی محبت تیرے دل میں ہے وہی تیری چیز ہے، اس بنیاد پر وہ مجھ سے رشتہ توڑنا چاہتی ہے اور یقین کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایسے راستے نکالے گا کہ جس سے اس کا نکاح اس شخص سے ہوگا جسے وہ چاہتی ہے، اسی دوران میں نے اسکے موبائل پر اس تیسرے شخص کے لئے ناشائستہ میسجز دیکھے، یہ ہے ہمارا مسئلہ ہے،اس بنیاد پر ہمارے کچھ سوال ہیں ۔
1. ہمارا نکاح جو آٹھ سال پہلے ہوا تھا جائز تھا یا نا جائز ؟
2. میری اہلیہ نے جو استخارہ کیا اور اس کو استخارہ میں جو دلیل بتائی گئی اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
3. چونکہ میری اہلیہ ہمارے رشتے کو ناجائز قرار دیتی ہے، الگ ہونے کی صورت میں ہمارے دو بچوں کی سرپرستی کی ذمہ داری کس پرہے؟
براہِ کرم ان سوالات کے جواب دیں اور اور دعا بھی کریں کہ اللہ تعالی ہم کو صحیح فیصلہ لینے کی توفیق نصیب فرمائے (آمین)،یہ سوال ہم دونوں یعنی میاں اور بیوی کا مشترکہ سوال ہے۔ براہِ کرم جواب سے نوازیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(1۔2) مذکور نکاح میں اگر چہ لڑکی نے والد کے ڈر سے نکاح نامہ پر دستخط کیے تھے مگر یہ اس کے اختیار سے ہی تھے اور پھر اس نے شوہر کو اپنے اختیار سے ہمبستری کا موقع بھی دیا تو اسکی طرف سے اس عقدِ نکاح پر رضا مندی تھی، اس لئے یہ نکاح شرعاً درست منعقد ہو چکا تھا، اب لڑکی کا آٹھ سال بعد اسکو ناجائز قرار دینا مسئلۂ شرعیہ سے ناواقفیت پر مبنی اور محض شیطانی خیال اور وسوسہ ہے، اس معاملہ میں جو استخارہ کیا گیا وہ بھی خلاف شریعت ہو نیکی وجہ سے اس سلسلہ کی کڑی ہے، اس سے متاثر ہو کر اپنا گھر برباد کرنے سے احتراز لازم ہے ۔
(3) میاں بیوی کے درمیان علیحدگی ہو جائے تو بچوں میں سے لڑکے کی عمر سات سال اور لڑکی کی عمر نو سال عمر ہونے تک اس کی پرورش و تربیت والدہ کے ذمہ ہوتی ہے، جبکہ ان کا نفقہ والد کے ذمہ ہوتا ہے، مذکور عمریں گزرنے کے بعد باپ اپنی اولاد کو شرعا ًو قانوناً اپنی تحویل میں لے سکتا ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (فإن استأذنها هو) أي الولي وهو السنة (أو وكيله أو رسوله أو زوجها) وليها وأخبرها رسوله أو الفضولي عدل (فسكتت) عن رده مختارة (وفی رد المحتار، تحت) (قوله عن رده) قيد به إذ ليس المراد مطلق السكوت لأنها لو بلغها الخبر فتكلمت بأجنبي فهو سكوت هنا فيكون إجازة۔اھ (3/59)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 31829کی تصدیق کریں
0     829
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات