گناہ و ناجائز

کس صورت میں لڈو گیم کھیلنا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
31517
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کس صورت میں لڈو گیم کھیلنا جائز ہے؟

مجھے دوفتاوی درکار ہیں
(1)کیا کار انشورنس جائز ہے؟جبکہ کمپنی کی طرف سے اسے لازمی قرار دیا گیا ہو ؟
(2) کیا بٹ کوائن جائز ہے؟
(3)کیا لڈو گیم کی اسلام میں اجازت ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(1)کار انشورنس جوا سود اور غیرِ شرعی شرائط کی بناء پر ناجائز اور حرام ہے،جس سے احتراز لازم ہے،البتہ اگر کسی اسلامی تکافل کمپنی کے ذریعے یہ معاملہ کیا جائے تو جائز اور درست ہوگا۔
(2)سائل نے بٹ کوائن کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا،لہذا اگر اس کی پوری تفصیل لکھ کر دوبارہ بھیج دی جائے تو حکمِ شرعی سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
(3) لڈو گیم اگر تین شرائط کے ساتھ ہو تو اس کو کھیلنے کی گنجائش ہے:
الف:اس میں جانبین سے ہارجیت کی شرط رکھ کر جوا نہ کھیلا جائے۔
ب: اس کے کھیلنے پر مداومت نہ کی جائے۔
ج:اس میں مشغولیت اس درجہ کی نہ ہو کہ فرائض وواجبات چھوڑ دیے جائیں،چنانچہ ان شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے کھیلا جائے تو اس میں حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار: (و) كره تحريما (اللعب بالنرد و) كذا (الشطرنج) (الیٰ قوله) وهذا إذ لم يقامر ولم يداوم ولم يخل بواجب وإلا فحرام بالإجماع اھ(5/394)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 31517کی تصدیق کریں
1     945
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات