کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکی کا نکاح زید سے ہوا، لیکن رخصتی نہیں ہوئی، اب لڑکے اور لڑکی کے گھر والوں کی آپس میں ناراضگی ہو گئی تو لڑکی والوں نے زید سے طلاق کا مطالبہ کیا، لیکن اس نے طلاق نہیں دی، اب لڑکی کے والد نے خفیہ طور پر اپنی بیٹی کا نکاح کسی اور جگہ کر دیا۔ اور رخصتی بھی کر دی ،حالانکہ زید نے ابھی تک طلاق نہیں دی تو کیا اس لڑکی کا دوسرا نکاح ٹھیک ہے یا نہیں ؟ اور اس دوسرے خاوند کے ساتھ اس کا رہنا اور اس سے جو اولاد ہوگی وہ جائز ہے یا ناجائز ؟ پلیز مفتی صاحب میرے اس مسئلہ کا جواب جلدی دیں اللہ آپ کا مددگار ہو ۔
پہلے شوہر سے با ضابطہ طلاق یا خلع وغیرہ کے ذریعہ علیحدگی حاصل کئے بغیر کسی دوسری جگہ نکاح جائز نہیں ، اس طرح کیا جانے والا دوسرا نکاح شرعاً منعقد بھی نہیں ہوتا ،بلکہ دوسرا نکاح ہو جانے کے باوجود یہ پہلے شوہر کی بیوی ہے اور وہ اسے اپنے پاس لے جانے کا بھی مجاز ہے ۔
صورت مسئولہ میں لڑکی کا باپ اپنی مذکور حرکت کی وجہ سے سخت گناہ گار ہوا ہے ، اُس پر اور لڑکی پر بصدق دل توبہ واستغفار لازم ہے اور یہ کہ اگر پہلے شوہر سے بیاہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو اس سے باقاعدہ طلاق یا خلع لینے اور عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کریں اور لڑکے کو بھی چاہیے کہ جب یہ عورت اس کے ساتھ ازواجی تعلقات قائم کرنے پر رضا مند نہیں اور وہ طلاق چاہتی ہے تو حق مہر وغیرہ کے عوض اُسے اپنے نکاح کی بندھن سے آزاد کر دے تاکہ وہ مزید گناہ گار ہونے سے بچ جائے ، ایسی صورت میں پہلے شوہر کا طلاق نہ دینا بھی زیادتی اور ناجائز عمل ہے ،جس سے اُسے بھی احتراز چاہیے، اور عورت کو بھی چاہیے کہ وہ پہلے شوہر سے طلاق کے بعد ہی دوسرے شخص سے نکاح کرے ورنہ لڑکے لڑکی کا جان بوجھ کر اس طرح ایک ساتھ رہنا بلا شبہ بغیر نکاح کے رہنے کے مثل ناجائزہے اور اس طرح اگر اولاد ہوگئی تو وہ بھی ولد الحرام ہی کہلائے گی ۔
ففي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا. قال: فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لأنه زنى كما في القنية وغيرها اهـ. (3/ 132)
و في الفتاوى الهندية: لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة كذا في السراج الوهاج (إلی قوله) ولو تزوج بمنكوحة الغير وهو لا يعلم أنها منكوحة الغير فوطئها تجب العدة وإن كان يعلم أنها منكوحة الغير لا تجب حتى لا يحرم على الزوج وطؤها كذا في فتاوى قاضي خان اھ (1/ 280)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: لأنه نكاح باطل) أي فالوطء فيه زنا لا يثبت به النسب، بخلاف الفاسد فإنه وطء بشبهة فيثبت به النسب ولذا تكون بالفاسد فراشا لا بالباطل رحمتي، والله سبحانه أعلم. (3/ 555) واللہ اعلم بالصواب