میرے والدین میرے ساتھ ضد پر کھڑے ہیں کہ ہم تمہاری مرضی کی شادی ہرگز نہیں کرسکتے ،حالانکہ میں والدین کی تمام شرائط ماننے کو تیار ہوں ،لیکن کہتاہوں کہ پسند میری ہوگی ،کیونکہ زندگی میں نے گزارنی ہے ؟
سائل جب عاقل بالغ ہے تو اس کو اس کا اختیار ہے کہ اپنی پسند کی شادی کرے اس سلسلہ میں شریعت نے والدین کی مرضی کا پابند نہیں بنایا البتہ والدین کو اپنے اس اہم معاملہ میں شریک رکھنا اور ان کی رائے کا احترام کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ وہ بچوں کیلئے شفیق ہوتے ہیں اور اپنے تجربہ کی بناء پر بہتر جانتے ہیں کہ کونسا رشتہ مناسب اور پائیدار رہے گا، پھر جس رشے میں والدین اور بزرگوں کی دعائیں شامل نہیں ہوتیں وہ اکثر وبیشتر علیحدگی اور طلاق پر منتج ہوجاتا ہے جو بڑی پریشانی اور ندامت کا سبب بنتاہے، اس لئے سائل کو والدین کی مشاورت اور اپنی پسند سے نکاح کرنے کا اہتمام چاہیئے۔
کما فی جامع الترمذی: عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنه عنی النبیﷺ قال رضا الرب فی رضا الوالد وسخط الرب فی سخط الوالد. (۲/ ۱۲)-
وفی الدر المختار:(و لاتجبر البالغة البکر علی النکاح) لانقطاع الولایة بالبلوغ (فإن استأذنها هو) أي الولي و هو السنة الخ (۳/ ۵۸) -