نکاح

کیا دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری ہے؟

فتوی نمبر :
30995
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کیا دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری ہے؟

السلام علیکم ! میری شادی کو سات سال ہو چکے ہیں، پر اولاد نہیں ہے ۔ ڈاکٹروں سے کافی علاج کروایا بیوی کا ، پر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ: اولاد نہیں ہو سکتی۔ میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں ، بیوی سے اس کے بارے میں بات کی تو وہ راضی نہیں ہو رہی۔ مجھے قرآن وسنت کی روشنی میں بتائیں میں کیا کروں؟ مجھے اولاد کی بہت خواہش ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل اگر دوسری شادی کے بعد دونوں بیویوں کے حقوق واجبہ جیسے نان نفقہ اور عدل و مساوات وغیرہ پورا کر سکتا ہو، تو اس کے لیے دوسری شادی کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ۔ اور اس سلسلہ میں پہلی بیوی سے باضابطہ اجازت بھی شرعاً ضروری نہیں ۔ تاہم اگر پہلی بیوی کی طرف سے قانونی چارہ جوئی کا اندیشہ ہو تو پیشگی اجازت لینا بہتر ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

قال الله تبارك وتعالى : {وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ } [النساء: 3]
وفى مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا كانت عند الرجل امرأتان فلم يعدل بينهما جاء يوم القيامة وشقه ساقط» رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي اھ (2/ 965)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 30995کی تصدیق کریں
0     196
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات