میں ایک مقروض اور تنگ دست ہوں اور اپنے رزق میں اضافہ کیلئے دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ میں نے سنا ہے کہ رزق عورت کے نصیب سے ملتا ہے، کیا یہ صحیح ہے ؟ اور اگر یہ صحیح ہے تو کیا میں ایساکر سکتا ہوں؟
سائل اگر دوسری بیوی کے تمام حقوقِ واجبہ جیسے نان،نفقہ وغیرہ، پورا کرنے پر قادر ہو تو دوسرا نکاح کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں، اور تنگدستی دور کرنے کا مسنون وظیفہ بھی ہے۔
کما فی الدر المختار: (و) يكون (سنة) مؤكدة في الأصح فيأثم بتركه ويثاب إن نوى تحصينا وولدا (حال الاعتدال) أي القدرة على وطء ومهر ونفقة اھ(3/ 7)