بات یہ ہے کہ: شروع سے میں اپنی نانی کے گھر رہا ہوں، کیونکہ والد صاحب سے ، امی کو خلع ہو گیا تھا، ماموں نے بہت پیار سے پالا ہے، مگر کافی عرصہ سے ماموں پیروں کے پیچھے بھاگتا ہے، کبھی کسی پیر کبھی کسی پیر اور کہتا ہے، انہیں کافی کچھ پتا چل جاتا ہے ،مگر نماز روزہ ذکر سے دور ہے ،مسجد جمعہ کو نماز پڑھنا کبھی جاتا ہے کبھی نہیں جاتا، نہ کسی چیز کی زندگی میں ٹائمنگ ہے۔ میری عمر اب 32 سال ہے شادی کے بارے میں نہ ماموں نہ میری امی سوچتے ہیں۔ ماموں کی عمر تقریبا 45 سال ہے، اب تک شادی نہیں کی، کتنی لڑکیاں دیکھیں ہر کسی میں کوئی نہ کوئی نقص نکالتا ہے۔ میں اب اپنی شادی کا کہہ رہا ہوں کیوں کہ میری عمر بھی ہو گئی ہے اور کمانے بھی اچھا لگا ہوں، ایک لڑکی پسند ہے ،اس سے کرنا چاہتا ہوں ،مگر ماموں پھر بضد ہیں اور کہتا ہے وہ چھوٹےایریا میں رہتی ہے تربیت صحیح نہیں ہے ،اور بہت کچھ، میں اس لیے اس لڑکی سے کرنا چاہتا ہوں کہ: میں اسے تین سال سے جانتا ہوں۔ چہرہ پر سفید نشانات ہیں اور کوئی رشتہ ڈھونڈوں، تو یہ آسان نہیں ، آپ اس کا حل بتائیں کیسے راضی کروں ماموں کو کیوں کہ وہ غصہ ہونے لگتے ہیں؟ شرعی طور پر میں کیسے شادی کر سکتا ہوں؟، اور کیا میں لڑکی کا نام بتاؤں، تو آپ بتا سکتے ہیں میرے لیے بہتر ہے یا نہیں؟ میں نے خود استخارہ کیا، مگر مجھے سمجھ نہیں آ رہا جواب۔ کیا شرعی طور گھر جگہ یہ سب دیکھ کر شادی کرنی چاہیئے؟
شریعت مطہرہ نے والدین پر لازم کیا ہے کہ اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں اور جب بالغ ہو جائے تو ان کے لیے اچھا رشتہ تلاش کر کے ان کی شادی کروائیں، اب جب سائل کی والدہ و ماموں سائل کے لیے شادی میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے ،تو سائل کو چاہئے کہ خاندان کے معزز افراد کے ذریعے انہیں راضی کرے، اور نماز کی پابندی کرتے ہوئے اللہ تعالٰی سے دعا بھی کرے ،اور ہر نماز کے بعد اکتیس بار اس آیت مبارکہ " {رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ } [القصص: 24] " کا وظیفہ کرے، ان شاء اللہ آسانی ہوگی۔