کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کہ بارے میں کہ کم از کم کتنے دن میں حج کے تمام ارکان ادا ہو سکتے ہیں ؟ یہ مسئلہ اس شخص کے بارے میں پوچھا جارہا ہے جو بیماری کی وجہ سے زیادہ دن سفر میں نہ ٹھہر سکتا ہو یا پھر ایسا شخص جس پر حج فرض ہو مگر ملازمت سے کم وقت کے لئے چھٹی مل رہی ہو؟ وقت کم ہونے کی وجہ سےمدینہ منورہ میں چالیس نمازوں کا کیا حکم ہوگا ؟
حج کے ارکان ِواجبات پانچ دن میں یعنی آٹھ ذو الحجہ سےلےکر بارہ ذوالحجہ تک اداکیے جاتے ہیں ،جبکہ مدینہ منورہ جانا اور وہاں جا کر چالیس نمازیں اداکرنا ارکانِ حج میں سے نہیں ، البتہ موقع ہو تو وہاں کی حاضری اور مسجد نبوی میں نماز کی ادائیگی بڑی سعادت و فضیلت کی بات ہے ۔
کما فی الدر المختار : (وخطب الإمام) أولى خطب الحج الثلاث (سابع ذي الحجة بعد الزوال و) بعد (صلاة الظهر)وكره قبله (وعلم فيها المناسك فإذا صلى بمكة الفجر) يوم التروية (ثامن الشهر خرج إلى منى) قرية من الحرم على فرسخ من مكة (ومكث بها إلى فجر عرفة ثم) بعد طلوع الشمس (راح إلى عرفات) على طريق ضب (و) عرفات (كلها موقف إلا بطن عرنة) اھ (2/503) ۔
و فیه أیضاً:(ثم أتى منى)فيبيت بها للرمي (وبعد الزوال ثاني النحر رمى الجمار الثلاث يبدأ) استنانا (بما يلي مسجد الخيف ثم بما يليه) الوسطى (ثم بالعقبة سبعا سبعا ووقف) حامدا مهللا مكبرا مصليا قدر قراءة البقرة (بعد تمام كل رمي بعده رمي فقط) اھ (2/520)۔