مجھے یہ پوچھنا ہے کہ میری والدہ کی طبیعت خراب ہے اور انہیں میری ضرورت ہے اور میرا ایک دوست مجھے”تبلیغ“ پے جانے کی دعوت دے رہا ہے، تو مجھے کیا کرنا چاہیئے ، اپنی والدہ کی خدمت کرنی چاہیئے یا انہیں اس حال میں چھوڑ کر تبلیغ کے لئےجانا چاہیئے ؟
اپنے شہر سے نکل کر دور دراز علاقوں میں تبلیغِ دین و تذکیر کے لئے جانا اگرچہ بہت مبارک عمل اور اہم ذمہ داری ہے، لیکن اگر سائل کی والدہ بیمار ہیں اور ان کو خدمت کی ضرورت ہو تو سائل کے لئے اپنے مقام میں ہی تبلیغی معمولات بجالاتے ہوئے ان کی خدمت کرنا ضروری ہے، تبلیغی دورہ پر نہ جائے۔
كما في مرقاة المفاتيح : عن معاوية بن جاهمة - رضي الله عنه – "أن جاهمة جاء إلى النبي - صلى الله عليه وسلم - فقال: يا رسول الله، أردت أن أغزو وقد جئت أستشيرك، فقال: هل لك من أم؟ قال: نعم. قال: فالزمها، فإن الجنة عند رجلها". رواه أحمد ". والنسائي، والبيهقي في " شعب الإيمان ".
تحت قوله: (فالزمها) أي: التزم خدمتها ومراعاة أمرها ۔۔ اھ (8/676)