نکاح

مجلسِ نکاح سے دور گواہوں کے فون پر ایجاب و قبول کو سننے کی صورت میں نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
30373
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

مجلسِ نکاح سے دور گواہوں کے فون پر ایجاب و قبول کو سننے کی صورت میں نکاح کا حکم

السلام علیکم !
میری عمر 24 سال ہے،کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک لڑکی کو فون پر نکاح کے الفاظ ادا کیے،جن کا نہ میرے والدین کو پتہ ہے اور نہ اس کے والدین کو،لیکن اس وقت میرا ایک دوست لاؤڈ اسپیکر پر سن رہا تھا،وہ اس چیز پر ایمان تو نہیں رکھتا اور سننے کے بعد وہ اس چیز پر یقین نہیں کررہا تھا،لیکن پھر بھی میرے کہنے پر اس نے وہ الفاظ سنے تھے،جس میں لڑکی نے بھی اس نکاح کو قبول کیا،میرا سوال یہ ہے کہ یہ نکاح عمل میں آیا ہے یا نہیں،براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح رہے کہ فون پر اس طرح نکاح منعقد نہیں ہوتا،اس لئے صورت مسئولہ میں نکاح کی شرائط نہ پائی جانے کی وجہ سے مذکور نکاح بھی منعقد نہیں ہوا ،لہذا مذکورہ لڑکی شرعاً سائل کی منکوحہ نہیں،بلکہ وہ بدستور اجنبیہ ہے،تاہم اگر نکاح کرنا مقصود ہو تو اولیاء کی اجازت اور رضامندی سے باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں مہر کے تقرر کے ساتھ نکاح کرکے میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرنا بھی درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما. (و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح اھ(3/21)۔
وفی الفتاوی الھندیة: (ومنها) سماع الشاهدين كلامهما معا هكذا في فتح القدير (الیٰ قوله) کان العقد ان فی مجلسین لایجوز بالاتفاق اھ(1/268)۔
وفی البحر الرائق: (قوله: وينعقد بإيجاب، وقبول وضعا للمضي أو أحدهما) (الیٰ قوله) شرائط الایجاب والقبول فمنھا اتحاد المجلس اذا کان الشخصان حاضرین فلو اختلف المجلس لم ینعقد (الیٰ قوله) عند حرین أو حرین وحرتین عاقلین بالغین مسلمین ولو فاسقین أو محدودین أو أعمیین أو ابنی العاقدین اھ (3/81/88)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 30373کی تصدیق کریں
0     526
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات