احکام حج

زکوٰۃ کی رقم سے حجِ بدل کروانا

فتوی نمبر :
30322
| تاریخ :
2017-03-14
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

زکوٰۃ کی رقم سے حجِ بدل کروانا

کیا میں اپنے گزرے ہوئے پھوپھا اور پھوپھی کا حج ِبدل زکوٰۃ کے پیسوں سے کروا سکتا ہوں؟ اور حجِ بدل کی قرآن و سنت کی روشنی میں کیا اہمیت ہے ؟ شاید آپ کے لیےیہ جاننا ضروری ہو کہ ان کی اولاد الحمد للہ حیات ہے ، اور برسرِ روزگار ہے ، کیا میرا انکے علم میں لانا ضروری ہو گا اگر اس کی اجازت ہو تو ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

زکوٰۃ کی رقم کا مصرف نادارمستحق ہیں ، اس لیے بجائے حج ِبدل میں لگانے کے زکوٰۃ کی رقم کسی مستحق فقیر کو دےکر مالک وقابض بنانا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (هي) لغة الطهارة والنماء، وشرعا (تمليك)(الی قولہ) (جزء مال) خرج المنفعة، فلو أسكن فقيرا داره سنة ناويا لا يجزيه (عينه الشارع) وهو ربع عشر نصاب حولي(إلی قوله)(من مسلم فقير) ولو معتوها (غير هاشمي ولا مولاه) اھ (2/258)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 30322کی تصدیق کریں
0     500
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات