گناہ و ناجائز

سافٹ ویئرز کے کاپی رائٹ (Copyright) کا قانون مالک کی اجازت کے بغیر انٹر نیٹ پر بنا لائسنس بطور آمدن استعمال کرنا

فتوی نمبر :
29709
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

سافٹ ویئرز کے کاپی رائٹ (Copyright) کا قانون مالک کی اجازت کے بغیر انٹر نیٹ پر بنا لائسنس بطور آمدن استعمال کرنا

آج کل اکثر حضرات کا ذریعۂ آمدن انٹرنیٹ ہے، (فری لانسنگ) , پوچھنا یہ مقصود ہے کہ اس میں جو سوفٹ ویئر استعمال ہوتے ہیں، عموما pirated ہوتے ہیں، اس کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ انٹر نیٹ پہ ہی کوئی کام کیا جاتا ہے، اور آمدنی ہمارے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جاتی ہے، پاکستان میں اور دیگر کئی ممالک میں سوفٹ ویئرز کے کاپی رائٹ، قوانین کا نفاذ نہیں ہے ، بیشمار عام استعمال کے سوفٹ ویئرز جیسا کہ Microsoft word, Microsoft excel, corel,photoshop illustrator یہ سب کے سب بنا لائسنس کے انٹرنیٹ پر بطور آمدن استعمال کیے جاتے ہیں ، ایسی کمائی حلال ہے یا حرام ہے ؟ جزاک اللہ خیرا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جن ممالک میں مذکورہ سافٹ ویئرز کے کاپی رائٹ (Copyright) کا قانون حق مالک محفوظ ہو، وہاں انہیں مالک کی اجازت کے بغیر انٹر نیٹ پر بنا لائسنس بطور آمدن استعمال کرنا قانوناً جرم اور ممنوع ہے، لہذا جس کمپنی یا ادارے کی جانب سے ان سافٹ ویئرز کی کاپی کی صراحۃً ممانعت کر دی گئی ہو، بلا اجازت اس کی کاپی اور اسے بطور آمدن استعمال کرنے سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي فقه البيوع : ان حق الابتكار والتاليف حق معتبر شرعاً، فلا يجوز لاحد أن يتصرف في هذا الحق بدون إذن من المبتكر أو المؤلف، وينطبق ذالك على حقوقه برامج الكمبيوتر أيضاً ولكن التعدى على هذا الحق إنما يتصور إذا انتج اھد مثل ذالك المنتج أو الكتاب أو البرنامج بشكل واسع للتجارة فيه أو بقصد الإسترباح اھ (۱/286)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد وقار سردار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 29709کی تصدیق کریں
0     538
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات