نکاح

نو عمر لڑکی کا نکاح کے بعد بھاگ کر بلوغت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنا

فتوی نمبر :
29665
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نو عمر لڑکی کا نکاح کے بعد بھاگ کر بلوغت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب سے پوچھنا یہ ہےکہ ایک چھوٹی سے لڑکی جس کا نکاح دس سال کی عمر میں تیس سال کے آدمی سے ہوا، تو پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ لڑکی گھر سے بھاگ گئی اور ہمارے دوست کے گھر آگئی، انہوں نے اس کو اپنے گھر میں رکھ لیاکیونکہ وہ بچی تھی ،ابھی اس کی عمر تقریبا پچیس سال ہے، لیکن اس کی فیملی یا گھر کا کوئی پتہ نہیں چلا۔ ابھی سوال یہ کہ اس لڑکی کا نکاح کسی اور سے کیا جا سکتا ہے کہ نہیں ؟ جزاک اللہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور لڑکی کا نکاح اگر اس کے اولیاء نے باقاعدہ طور پر کروایا تھا محض منگنی نہیں ہوئی تھی تو ایسی صورت میں اس لڑکی کا نکاح شرعا منعقد ہو چکا ہے، اب پہلے شوہر سے طلاق یا خلع لیے بغیر دوسرے شخص سے نکاح ناجائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي تنویر الابصار : (وكل صلح بعد صلح والثاني باطل وكذا) النكاح بعد النكاح والحوالة (الصلح بعد الشراء) (۵/ ۶۳۶)
وكذا في الدر المختار: (وللولي) الآتي بيانه (إنكاح الصغير والصغيرة) جبرا (ولو ثيبا) كمعتوه ومجنون شهرا (ولزم النكاح ولو بغبن فاحش) بنقص مهرها وزيادة مهره اھ (3/ 65)
و في الهداية شرح البداية: ويجوز نكاح الصغير والصغيرة إذا زوجهما الولي بكرا كانت الصغيرة أو ثيبا اھ (1/ 198) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 29665کی تصدیق کریں
0     145
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات