میری ایک دوست ہے وہ اپنے شوہر کے بیٹے سے شادی کرنا چاہتی ہے ،جو اس کی پہلی بیوی کا بیٹا ہے ، لیکن اس کے شوہر نے اس کو طلاق دے دی ہے ، طلاق کے بعد اس نے کسی دوسرے آدمی سے شادی کرلی تھی، اب اس کے شوہر نے بھی اسے طلاق دے دی ہے، تو کیا وہ یہ شادی کر سکتی ہے؟
سائلہ کی دوست جس لڑکے سے نکاح کرنا چاہتی ہے، وہ اس لڑکےکی سوتیلی ماں بنتی ہے اور سوتیلی ماں سے نکاح از روئے قرآن نا جائز و حرام ہے، اس لیےاس نکاح سے اجتناب لازم ہے۔
کما في الهداية: ولا بامرأة ابيه واجداده لقوله تعالى ولا تنكحوا ما نكح اباء كم۔اھ (2 /308)
وفي بدائع الصنائع: أما منكوحة الأب: فتحرم بالنص وهو قوله: {ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم من النساء} [النساء: 22] والنكاح يذكر ويراد به العقد وسواء كان الأب دخل بها أو لا؛ لأن اسم النكاح يقع على العقد والوطء فتحرم بكل واحد منهما على ما نذكر۔اھ (2/ 260)