اگر دورانِ غسل دانتوں کے درمیان چھالیہ ، پان یا گھٹکا رہ جائے تو کیا غسل ہوجاتا ہے؟
دورانِ غسل دانتوں کے درمیان جو چیز رہ جائے ، اگر آسانی سے نکل سکتی ہو تو نکال دینی چاہیئے ، ورنہ کلی کرنے سے غسل ہوجائے گا۔
فی الفتاوی الھندیة : و لو كان سنه مجوفا فبقي فيه أو بين أسنانه طعام أو درن رطب في أنفه ثم غسله على الأصح ، كذا في الزاهدي و الاحتياط أن يخرج الطعام عن تجويفه و يجري الماء عليه هكذا في فتح القدير اھ (1/13)۔