ایک لڑکی کا ۸ سال کی عمر میں نکاح ہوا، رخصتی نہیں ہوئی تھی، اب اس کی عمر 23 سال ہے۔ اب وہ کہتی ہے میں اس وقت نا سمجھ تھی جب میرا نکاح ہوا کیا وہ نکاح جائز تھا اور اسی کو جاری رکھا جائے گا؟ یا دوبارہ نکاح کرنا ہوگا رخصتی کے لیے؟
صورت مسئولہ میں مذکورہ لڑکی کا نکاح اگر والد یا دادا نے دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کے ساتھ کرایا ہو تو یہ نکاح شرعا بھی منعقد ہو چکا ہے۔ اب رخصتی کے وقت دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں، نہ ہی اس لڑکی کا کسی اور سے نکاح کرنا درست ہے۔
كما في الهداية شرح البداية: قال فإن زوجهما الأب أو الجد يعني الصغير والصغيرة فلا خيار لهما بعد بلوغهما (إلى قوله) وإن زوجهما غير الأب والجد فلكل واحد منهما الخيار إذا بلغ إن شاء اقام على النكاح وإن شاء فسخ اھ (1/ 198)
وفيها ايضا: قال النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي (إلی قوله) قال ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول اھ (1/ 189) والله اعلم بالصواب