نکاح

نکاح میں حق ولایت - ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
28403
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نکاح میں حق ولایت - ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا حکم

کسی لڑکی کے نکاح کے وقت اس کی طرف سے ولی کون کون ہوسکتا ہے؟ اگر کوئی لڑکی گھر سے بھاگ کرنکاح کرتی ہے تو کیا اس لڑکی کو اختیار ہے کہ وہ اپنی طرف سے کسی غیر شخص کو اپنا ولی مقرر کرے؟جبکہ اس کے والد حیات ہیں، اور ایسے نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جو لوگ عصبہ بنتے ہیں وہی ولی ہیں،اس ترتیب سے کہ باپ سب پر مقدم ہے،پھر دادا پھر سگا ماں باپ شریک بھائی،پھر باب شریک بھائی ولی بنے گا،پھر واضح ہوکہ جو لڑکی اولیاء کی اجازت کے بغیر بھاگ کرنکاح کرے تو وہ کسی غیر شخص کو اپنا ولی مقرر نہیں کرسکتی اور ایسا نکاح غیر کفوء میں سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا،جبکہ کفوء میں منعقد ہوجاتا ہے،مگر اولیاء کی اجازت کے بغیر جوان لڑکی کا خود اپنا نکاح کرنا بڑی بے غیرتی اور بے حیائی پر مبنی عمل ہے،شریف خاندانوں میں اس کو بہت معیوب سمجھا جاتا ہے ,اس سے احتراز چاہیئے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) (ويفتى) في غير الكفء(بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان) اھ(3/56)۔
وفی رد المحتار: يقدم الأب، ثم أبوه، ثم الأخ الشقيق ثم لأب، وذكر الكرخي أن تقديم الجد على الأخ قول الإمام وعندهما يشتركان والأصح أنه قول الكل اھ(3/76)۔
وفی الھدایة: واذا زوجت المرأة نفسھا من غیر کفؤ فللأولیاء أن یفرقوا بینھما دفعاً لضررالعار عن أنفسھم اھ (2/320)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 28403کی تصدیق کریں
0     936
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات