میں ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں، مگر ان کے گھر والے اس رشتے سے راضی نہیں ہیں، اس سے کورٹ میرج کرنا چاہتا ہوں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ سید ہیں اور میں نے سنا ہے کہ شاید سید لڑکا لڑکی باپ کی مرضی کے بغیر نکاح کرے تو حرام ہے؟
غیر سید لڑکا سیدہ لڑکی کا کفؤ نہیں، اس لئے سید لڑکی کے اولیاء کے بغیر سائل نکاح کرے گا تو یہ نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوگا، لہذا سائل کو چاہیئے کہ لڑکی کے والدین کو راضی کرکے نکاح کی ترتیب بنائے۔
کما فی البحر الرائق: والكفاءة تعتبر نسبا فقريش أكفاء والعرب أكفاء (الی قوله) فقريش أكفاء حتى لو تزوجت هاشمية قرشيا غير هاشمي لم يرد عقدها وإن تزوجت عربيا غير قرشي لهم رده كتزويج العربية عجميا۔اھ (3/ 139)