احکام حج

ساس کا داماد اور سالی کا بہنوئی کے ساتھ حج پر جانا

فتوی نمبر :
28279
| تاریخ :
2016-03-05
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

ساس کا داماد اور سالی کا بہنوئی کے ساتھ حج پر جانا

ساس داماد کے ساتھ حج پر جاسکتی ہے ؟ اگر بیٹی بھی ساتھ ہو ، اور کیا سالی بہنوئی کے ساتھ حج کا سفر کر سکتی ہے اگر بہن بھی ساتھ ہو؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ساس اپنے داماد کے ساتھ حج پر جا سکتی ہے مگر سالی کا بہنوئی کے ہمراہ سفر حج پر جانا جائز نہیں ، تاہم اگر چلی جائے توحج تو ادا ہو جائے گا، لیکن بغیر محرم سفر کرنےکا گناہ لازم آئے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الرد تحت : (قوله ومع زوج أو محرم) هذا وقوله ومع عدم عدة عليها شرطان مختصان بالمرأة فلذا قال لامرأة وما قبلهما من الشروط مشترك والمحرم من لا يجوز له مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو صهرية كما فی التحفة اھ (2/464)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 28279کی تصدیق کریں
0     643
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات