السلام علیکم مفتی صاحب!
میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ میں اور میری بیوی حج ادا کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے میں نے کمپنی کے "پی ایف" فنڈ سے بلا سود قرض لیا،جو بعد میں قسط وار ادا کروں گا تو کیا اس طرح قرض لے کر حج ادا کرنا جائز ہے؟ اس کے علاوہ میرے ذمہ اور کوئی قرض واجبُ الادا نہیں ہے۔
سائل کا کمپنی کے "پی ایف"(PF) فنڈ سے بلا سود قرض لے کر حج ادا کرنا جائز اور درست ہے، البتہ اگر بعد میں قرض کی واپسی پر قدرت نہ ہو تو قرض لے کر حج پر جانا مناسب نہیں ۔
کمافی رد المحتار:(قوله لتقدم حق العبد) أي على حق الشرع لا تهاونا بحق الشرع، بل لحاجة العبد وعدم حاجة الشرع (الیٰ قوله)ولذا قلنا لا يستقرض ليحج إلا إذا قدر على الوفاء كما مر اھ(2/462)۔