پشاور میں ایک ڈالر کی قیمت 100 روپے ہے، جبکہ کابل میں 105 روپے ہے، اب اگر میں کسی کو کابل میں ایک ڈالر کی دیتاہوں اور پشاور میں اس سے ایک ڈالر اور پانچ روپے پاکستانی لیتاہوں تو کیا یہ سود کے زمرے میں تو نہیں آئے گا؟ اگر ایسا کرنا سود ہے تو یہ کس طرح صحیح ہوسکتاہے؟ طریقہ بتادیں۔
صورت مسئولہ میں مذکور معاملہ سود کے زمرے میں آتاہے جس سے احتراز لازم ہے البتہ اس کی جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ سائل ڈالر مذکور طریقے سے دینے کے بجائے 105 روپے پاکستانی میں فروخت کردے، مجلس عقد میں ہی ایک جانب سے قبضہ بھی کیا جائے اور دوسری طرف سے جب چاہے اور جہاں چاہے وہ روپے وصول کرلے۔
کمافی المبسوط للسرخسی: وإذا اشتری الرجل فلوسا بدراہم ونقد الثمن ولم تکن الفلوس عند البائع فالبیع جائز لأن الفلوس الرائجۃ ثمن کالنقود وقد بینا أن حکم العقد فی الثمن وجوبہا ووجودہا معًا ولا یشترط قیامہا فی ملک بائعہا لصحۃ العقد کما یشترط ذلک فی الدراہم والدنانیر. (ج: ۱۴ ص: ۲۴)
فی الدر المختار: وفی الاشباہ کل قرض جر نفعًا حرام.(ج: ۵ص: ۱۶۶ طبع سعید) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1