احکام حج

حاجیوں سے پیسے لے کر دمِ قران یا دمِ تمتع (حج کی قربانی) ادا نہ کرنا

فتوی نمبر :
25952
| تاریخ :
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

حاجیوں سے پیسے لے کر دمِ قران یا دمِ تمتع (حج کی قربانی) ادا نہ کرنا

میں مکہ مکرمہ میں رہتا ہوں، پچھلے سال حج کے کے لئے حاجی آ ئے تھے ، انہوں نے مجھے قربانی کے لئے پیسے دے کر کہا کہ ہماری قربانی کر دیں ،وہ پیسے مجھ سے خرچ ہو گئے ، میں نے ان سے کہا کہ میں نے قربانی کر دی ہے ، اب اس کا کفارہ کیسے ادا کروں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے یہ نہیں لکھا کہ مذکور حاجیوں نے کونسی قربانی کے لئے پیسے دیے تھے ، تاہم اگر حجِ قران یا تمتّع کی قربانی کے لئے پیسے دیے تھے تو اس پر لازم ہے کہ جتنے پیسے قربانی کے لئے دیے تھے ان پیسوں سے ہر حاجی کی طرف سے علیحدہ قربانی کرے ، جبکہ قربانی کرنے میں تاخیر کی وجہ سے جو دم لازم آیا ہے وہ بھی سائل کے ذمہ لازم ہے ، اور جو دھوکہ دہی اور جھوٹ کا ارتکاب ہوا ہے اس پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے اور آئندہ اس طرح کےعمل سے خوب احتیاط بھی کرے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی : وَمَنْ يَعْمَل ْسُوءًاأَوْيَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِاللَّهَ يَجِدِاللَّهَ غَفُورًارَحِيمًا (النساء : 110)۔
و فی الہندیة : من أخر الحلق حتى مضت أيام النحر فعليه دم وكذا القارن أو المتمتع إذا أخر الذبح حتى مضت أيام النحر، كذا في المحيط شا (1/244)۔
و فیھاأیضاً : ولا يجوز ذبح هدي المتعة والقران إلا في يوم النحر، كذا في الهداية حتى لو ذبح قبله لا يجوز إجماعا وبعده كان تاركا للواجب عند الإمام فيلزمه دم هكذا في البحر الرائق اھ(1/261)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
غلام علی قلندر بخش عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 25952کی تصدیق کریں
| | | |
0     201
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات