نکاح

نانی کا دودھ پینے کی صورت میں خالہ کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے ؟

فتوی نمبر :
25810
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نانی کا دودھ پینے کی صورت میں خالہ کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے ؟

مفتی صاحب ! السلام علیکم! مسئلہ یہ ہے کہ امجد نے اپنی سگی نانی اماں کا دودھ پیا ہے اور اب امجد اپنی خالہ کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے، کیا یہ نکاح جائز ہے؟ امجد نے نانی اماں کا دودھ اپنے ماموں کے ساتھ پیا ہے، جو کہ سب سے چھوٹے ہیں، باقی سب لوگ بڑے ہیں، یعنی کہ جس خالہ کی بیٹی کے ساتھ امجد نکاح کرنا چاہتا ہے ،اس خالہ کا نمبر تیسرا ہے اور جس ماموں کے ساتھ امجد نے دودھ پیا ہے ، اس ماموں کا نمبر آخری ہے ، قرآن و حدیث کی روشنی میں اسکا حل صادر فرمائیں ۔ جزاک اللہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

امجد نے جب اپنی نانی کا دودھ پیا ہے تو اس کی وجہ سے وہ اس کا رضاعی بیٹا اور خالہ کی تمام اولاد کا ماموں بن گیا ہے، لہذا اس کا نکاح اپنی خالہ کی کسی بیٹی سے جائز نہیں ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فى الهداية: قال: ويحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب للحديث الذى روينا۔اھ (2/ 351)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 25810کی تصدیق کریں
0     691
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات