میرے دوست کے والد کا انتقال ہو گیا، ان کی والدہ کی عدت ہے جبکہ وہ حج پر جانا چاہتی تھیں، تیاری مکمل تھی، شوہر کے انتقال پر عدت شروع ہو گئی، عدت کا خاتمہ حج کی مدت گزرنے کے بعد ہوگا، کیا دورانِ عدت بیوہ اور بیٹے کے ساتھ عورت حج پر جاسکتی ہے ؟
دورانِ عدت عورت حج کے لیے نہیں جا سکتی اگر چہ ساتھ میں کوئی محرم ہو، ا س لئے اُسے چاہیئے کہ فی الحال نہ جائے اورآئندہ جب قدرت ہو تو کسی محرم کے ساتھ سفر حج کرے۔
کما فی البدائع : والثاني: أن لا تكون معتدة عن طلاق أو وفاة؛ لأن الله تعالى نهى المعتدات بقوله عز وجل: {لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن} اھ (2/ 124)۔
و فی البحر الرائق : خمسۃ علی الاصح صحۃ البدن و زوال الموانع الحسیۃ عن الذہاب الی الحج و امن الطریق و عدم قیام العدہ حق المرأۃ و خروج الزوج او المحرم معھا اھ (2 /331)۔