میں پانچ وقت نماز پڑھتا تھا اور جب مجھے احتلام ہوجاتا تھا تو غسل کرلیا کرتا تھا ایک مرتبہ میں نے بہشتی زیور کتاب میں پڑھا کہ غسل کے دوران پانی کے کچھ قطرے عضوِ تناسل کے اندر ڈالنے ضروری ہیں جو میں نہیں کیا کرتا۔ کیا میں ان تمام نمازوں کی قضا کروں گا جو میں اس سے پہلے اس طرح غسل کرتے ہوئے ادا کیں؟
غسل کے دوران عضو تناسل کے اندر پانی پہنچانا ضروری نہیں، بہشتی زیور میں جو مسئلہ لکھا ہے وہ غیر مختون شخص سے متعلق ہے، اس لیے سائل کو پریشان ہونے اور گزشتہ نمازوں کی قضا کی ضرورت نہیں۔
فی الدر: (ویجب) ای یفرض (غسل) کل ما یمکن من البدن بلا حرج مرة کأدن و (سرة وشارب وحاجب و) اثناء (لحیة) وشعر رأس.... (خرج خارج) لانه کالضم لا داخل لانه باطن ولا تدخل اصبعها فی قبلها. الخ (۱/ ۱۵۲) واللہ اعلم