نکاح

سکھ لڑکی سے ناجائز تعلقات کے بعد نکاح کرنا

فتوی نمبر :
24759
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

سکھ لڑکی سے ناجائز تعلقات کے بعد نکاح کرنا

السلام علیکم! میں اپنی زندگی کا ایک بہت اہم مسئلہ کے بارے آپ سے قرآن و سنت کے مطابق مدد ،درکار ہے۔ برائے مہربانی میری راہ نمائی فرمائیں۔
میں میرا نام ۔۔۔۔ ہے اور میری عمر 43 سال ہے میری شادی کو تقریباً 20 سال ہو گئے ہیں اور ماشاء اللہ میرے دو بچے ہیں۔ ایک کی عمر ۱۶ برس اور دوسرا 12 برس کا ہے ۔
پانچ سال پہلے میرے ایک سکھ مذہب کی لڑکی سے تعلقات قائم ہو گئے تھے اور اس سے بھی ایک سال کا بچہ ہے جو مجھ سے یہ غلطی ہوئی کہ میں نے بغیر شادی کے ایک بچہ کیا اور مجھے معلوم ہے کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے، میں اپنے اس گناہ کا ازالہ چاہتا ہوں ۔ میں ان دونوں ماں بیٹا کو مسلمان کر کے لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور ان کو معاشرے میں عزت دینا چاہتا ہوں اور اپنے گناہ کی توبہ کرنا چاہتا ہوں۔ یہ دونوں بھی مسلمان ہونا چاہتے ہیں، لیکن میری پہلی بیوی اس کے مخالف ہے۔ میں یہ سب کچھ اپنے گناہ کا ازالہ کرنے اور دونوں کو ان کا حق دینا چاہتا ہوں اور میں پہلی فیملی بھی نہیں چھوڑ رہا، میں دونوں فیملی میں برابر حقوق دینا چاہتا ہوں اور اپنے گناہ کو دھونا چاہتا ہوں ۔ برائے مہربانی قرآن و وسنت کی مدد سے میری راہ نمائی فرمائیں کہ کیا ان حالات میں اسلام دوسری شادی کی اجازت دیتا ہے۔ یہ ایک ماں اور بیٹے کے مستقبل کا سوال ہے اگر میں ان دونوں کو نہیں سنبھالتا تو یہ دونوں خراب ہو جائیں گے، یہ دنیا ان پر لعن طعن کرے گی اور میرا ضمیر بھی مطمئن نہیں ہوگا۔ برائے مہربانی میری مدد فرمائیے قرآن اور سنت کی روشنی میں فیصلہ کیجیے۔ شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا کسی غیر مسلم عورت کے ساتھ تعلقات قائم کرنا اور اس کے ساتھ زنا شوئی کرنا قطعا نا جائز اور حرامکاری ہے، جو بہت بڑا گناہ ہے، اگر اسلامی قانون نافذ العمل ہوتا اور سائل اور اس کی دوست کا جرم ثابت ہوتا تو اس پر ان کو قرار واقعی سزا ملتی، تاہم سائل پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس جرم پر اللہ تعالٰی سے بصدق دل تو بہ و استغفار کرے اور فورا اس عورت سے علیحدگی اختیار کرے اور اگر وہ مسلمان ہونا چاہتی ہو تو اس کو باقاعدہ مسلمان بھی کر سکتا ہے، جبکہ اپنے لیے نکاح کے سلسلہ میں اپنی پہلی بیوی اور برادری کو بھی اعتماد میں لےتاکہ اس کی وجہ سے گھریلو سکون برباد نہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: قوله تعالى {والزانية لا ينكحها إلا زان} [النور: 3] اھ (3/ 50)
و في الدر المختار: لو نكحها الزاني حل له وطؤها اتفاقا والولد له ولزمه النفقة اھ (3/ 49)
و في الخانیة: وأما الواحدة التی هی م جهة الکفر منهی لمجوسیة، لا یجوز للمسلم تروجها وکذلك عبدة الاوثان والمرتدة اھ (۲/ ۶۱۸) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 24759کی تصدیق کریں
0     135
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات