ہمارے یہاں کے ایک عالم دین لوگوں سے یہ کہتےہیں کہ جب تم حج یا عمرہ کیلیے جاؤ تو حج یا عمرہ کرنے کے بعد جب مدینہ منورہ جاؤ تو رسول اللہﷺ کے روضہ انور پر سلام کرتے وقت جاؤ تو جالی کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے ایمان کی تجدید ان الفاظ سے کرو ’’اے اللہ کے رسولﷺ! میں آپ کو گواہ بناتاہوں اور کلمہ شہادت پڑھے اور کہے کہ قیامت کے دن آپ اس کی گواہی دینا‘‘ اور پھر یہ عالم جب خود کسی گروپ کے ساتھ حج یا عمرہ پر جاتے ہیں تو مدینہ منورہ میں لوگوں کے نکاح کی بھی تجدید کرواتے ہیں، قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دے کر عند اللہ ماجور ہوں۔
سوال میں مذکور دونوں امور اگرچہ فی نفسہٖ جائز ہیں، مگر اس کو باقاعدہ التزام کے ساتھ کرنا، یا اس کو ضروری سمجھنا درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ ضروری اور لازم سمجھے بغیر اگر کبھی کبھار اس طرح کیا جائے تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں، لیکن مستقلاً اسے نہ کیا جائے کہ بدعت کی شکل اختیار نہ کرے۔
في مرقاۃ المفاتیح: قال الطيبي: وفيه أن من أصر على أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال اھـ (۳/۳۱)
وفي السعاية: الإصرار علی ٲمر مندوب یبلغه ٳلی حد الکراهة، فکیف ٳصرار البدعة التي لا ٲصل لها في الشرع اھـ (۲/۲۶۵) واللہ أعلم!