اگر ایک آدمی غسل کرکے نماز پڑھ لے یا وضو کرکے نماز پڑھ لے اور اس کے بعد خود کو دیکھے کہ قطرہ نکلا ہوا ہو جبکہ دورانِ نماز اسے قطرہ نکلنے کا احساس تک نہ ہوتا ہو جب تک وہ چیک نہیں کرتا، تو آدمی پر غسل اور نماز یا اس وضو کا اعادہ لازم ہے؟ نیز اس بارے میں کیا حکم ہے؟ اگر ایک آدمی غسل کررہا ہو کلی کی ہو ناک میں پانی ڈالا ہو اور اس دوران اس کی ریح نکل جائے یا جسم پر پانی بہارہا ہو یا بہاچکا ہو اور ریح نکلے تو کیا آدمی غسل کو دوبارہ شروع کرے گا؟
(۱) سائل کو اگر غسل کے بعد منی آتی ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ منی پیشاب کرنے، یا سونے یا زیادہ چلنے سے پہلے آئی ہو تو سائل کا غسل نہیں ہوا، وہ غسل اور نماز دونوں کا اِعادہ کرے، اور اگر منی مذکورہ تین افعال کے بعد آئی ہو تو قطرہ نکلنے سے وضوء ٹوٹ گیا اور اس دوران جو نمازیں پڑھی گئی ہیں ان کا اعادہ لازم ہے۔
(۲) اور اگر دورانِ وضوء خروج ریح ہوجائے تو وضوء کا اعادہ کرے اور اگر دورانِ غسل ریح وغیرہ کا خروج ہوجائے تو اس کے بعد پورے بدن پر پانی بہاکر غسل مکمل کرے تو اس غسل کے بعد وضوء کی حاجت نہیں بلکہ اسی وضوء سے نماز پڑھ سکتا ہے ورنہ غسل کے بعد وضوء کرکے نماز پڑھ لے۔
ففی الدر المختار: خرج من یبعد البول وذكره منتشر لزمه الغسل قال فی البحر ومحله ان وجد الشهوة وهو تقید قولهم بعدم الغسل بخروجه بعد البول. وفی الشامیة:(قوله: تقييد قولهم) أي فيقال إن عدم وجوب الغسل (الي قوله) وكذا یقید عدم وجوبه بعد النوم والمشی الكثیر. اهـ (1/161)
وفیه ایضًا: (وینفضه) خروج كل خارج نجس (إلی قوله) وخروج غیر نجس مثل (ریح او دودة او حصاة من دبر). اهـ (1/135)