السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
حضرت میں نے اچھی تعلیم (A.B.A) حاصل کی اور ایک نوکری بھی کر رہا ہوں لیکن شروع سے میں سوچتا تھا کہ اپنا کاروبار کرونگا، ایک سال ہوا کاروبار شروع نہیں ہو رہا، نوکری نہیں چاہتا ،اپنی زندگی تبدیل کرنا چاہتا ہوں کاروبار کے ذریعے سے ، میں نے استخارے بھی کیے پر کچھ سمجھ نہیں آیا۔ اب حالت یہ ہے کہ میں ذہنی مریض بنتا جارہا ہوں، گھر والوں نے کاروبار کے لیے شروع میں ساتھ نہیں دیا، اب میرے حالات دیکھ کردلا سے دے رہے ہیں، میں ایسی زندگی جینا نہیں چاہتا، جس میں گزارے ہوں، میں یا تو جیسی سوچ ہے ویسا جینا چاہتا ہوں، یا پھر مرنا چاہتا ہوں، ایسی زندگی سے نفرت ہے مجھے جس میں گزارے ہوں، میرا سوال یہ ہے کہ جب اللہ کو مجھ پر ترس نہیں آرہا، تو پھر خودکشی میں کوئی مسئلہ تو نہیں ؟ میں کرلوں تو جاب میں رعایت ہوگی ظاہر بات ہے تنگ آکر کیا ہے، میرے گھر والوں سے میری سوچ نہیں ملتی ،کیا میں گھر والوں سے دور رہ سکتا ہوں ، یعنی اپنے ماں باپ سے سکون کے لیے۔ مجھے پتہ ہے کہ آپ کا وقت بہت قیمتی ہے، اتنے مجبور ہو کر آپ سے سوال پوچھا ہے امید ہے آپ مایوس نہیں کرینگے۔
سائل کو چاہئیے کہ اپنے کو اللہ کے سپرد کردے ، اور اپنے معاملات کو بھی اللہ کے حوالے کردے، اور ساتھ ساتھ اچھی صحبت اختیار کرنے کی بھی کوشش کرے، تو انشاء اللہ حالات میں بہتری آجائیگی، حالات سے دلبرداشتہ ہو کر والدین کو چھوڑ دینا یا خودکشی کے خیالات دل میں لانا انتہائی نامناسب اور غلط سوچ ہونے کے علاوہ بے ہمتی پرمبنی ہے، اگر کاروبار کے مواقع نہیں تو سائل کو چاہئیے کہ کوئی اچھی ملازمت تلاش کرے۔
کما فی فتح الملھم: قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من قتل نفسہ بحدیدة فحدیدتہ فی یدہ یتوجأ بھا فی بطنہ فی نار جھنمم خالد امخلدا فیھا ابداً الخ ویؤخذ منہ أن جنایة الانسان علی نفسہ کجنایة علی غیرہ فی الاثم لان نفسہ لیست ملکا لہ مطلقا، بل ھی للہ تعالی فلایتصرف فیھا الا بما اذن لہ فیھا الخ (2/151)۔
وفی فتح القدیر: وعن هذا حرم الخروج إلى الجهاد وأحد الأبوين كاره لأن طاعة كل منهما فرض عين (الی قولہ) عن عبد الله بن عمرو «جاء رجل إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فاستأذنه، فقال: أحي والداك؟ قال: نعم، قال: ففيهما فجاهد» الخ (5/442)۔