احکام حج

ماموں زاد بھائی کے ساتھ حج یاعمرے پر جانا

فتوی نمبر :
23424
| تاریخ :
2014-09-27
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

ماموں زاد بھائی کے ساتھ حج یاعمرے پر جانا

کیا کوئی عورت اپنے ماموں زاد بھائی کے ساتھ حج یا عمرہ ادا کر سکتی ہے؟ برائے کرم جلدی جواب دےکر ممنون فرمائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ماموں زاد بھائی نامحرم ہے اور عورت کا اپنے نامحرم کے ساتھ حج/ عمرہ یا کسی بھی سفر کے لیےجانا بلا شبہ ناجائز اور حرام ہے،اس سے احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الصحیح للمسلم : عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ، تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، تُسَافِرُ مَسِيرَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ» اھ (2/975)۔
و فی الرد تحت : (قوله ومع زوج أو محرم) هذا وقوله ومع عدم عدة عليها شرطان مختصان بالمرأة فلذا قال لامرأة وما قبلهما من الشروط مشترك والمحرم من لايجوز له مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو صهرية اھ (2/464)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 23424کی تصدیق کریں
0     644
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات