محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم!
۱۔ آدمی اپنی بیوی کے ساتھ مباشرت کرے اور انزال سے قبل روک لے اور جدا ہو جائے اور کچھ دیر بعد جب استنجاء کرے تو اس کے ساتھ چند قطرے نکلیں جو گاڑے ہوں ، تو اس کا حکم کیا ہے؟ وہ منی ہے یا کچھ اور؟ اور مرد پر غسلِ جنابت واجب ہے؟
۲۔ عضو میں لگے منی کے دھونے کے بعد ، مرد اپنے کپڑے پہن لے اور بعد میں غسل کے بعد وہی کپڑے پہن لے ، تو اس کے ساتھ نماز صحیح ہوگی؟
(۱، ۲) صورتِ مسئولہ میں غسلِ جنابت واجب ہے اور مذکور کپڑوں پر اگر نجاست نہ لگی ہو ، تو غسل کے بعد انہیں دوبارہ پہن کر ان میں نماز پڑھنا بھی بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
فی مشكاة المصابيح : عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : «إذا جلس بين شعبها الأربع ثم جهدها فقد وجب الغسل و إن لم ينزل» اھ (1/ 135)۔
و فی البحر : أی و فرض الغسل عند غیبوبة ما فوق الختان و کذلك غیبوبة مقدار الخشفة من مقطوعها فی قبل امرأة یجامع مثلها أو دبر علی الفاعل و المفعول به و إن لم ینزل اھ (۱/ ۵۸)۔