السلام علیکم !
مفتی صاحب! آج کل رمضان کے پروگرام میں عمرے کا ٹکٹ دینا اور حج پر لکی ڈرا کے ذریعے لوگوں کو بھیجنا صحیح ہے کہ نہیں؟ جہاں تک میں نے سنا ہے کہ اس طرح سے حج پر جانا جائز نہیں، لیکن جنید جمشید کے پروگرام میں زونگ آفر کرتا ہے، لکی ڈرا کے ذریعے برائے مہربانی وضاحت سے جواب دیں، کیونکہ جنید جمشید صاحب کا ملنا جلنا علماء کرام سے ہے ،تو اس لئے کنفیوژن لاحق ہو رہی ہے۔ برائے مہربانی اس بات کے پیچھے جو حکمت ہے، اُس کو واضح کر دیں ۔ تاکہ وہ لوگ جو ذرا ذرا سی بات پر علماء کرام کو مشکوک بنا دیتے ہیں۔ اُن کو میں واضح طور پر آپ کا فتویٰ بتا سکوں ۔ جزاک اللہ !
اگر متعلقہ قرعہ اندازی میں کوئی غیر شرعی شرائط نہ ہوں، محض قسمت آزمائی کے طور پر چند افراد کے نام ڈال کر ان میں سے کسی کو فریضۂ حج یا عمرہ کی ادائیگی کیلئے بھیجنا شرعاً بھی جائز اور درست ہے۔
ففي الخانية: والأخرى لتطيیب النفس وأنها جائزة كالقرعة بين النساء للسفر والقرعة بين النساء في البداءة في القسم اھ (۳/ ۱۵۵)-