میری دادی اور میری ماں میرے ساتھ رہتی ہیں، دادی کے چار بیٹے ہیں جو ہمارے ساتھ نہیں رہتے، ان کی مالی حالت اچھی ہے، لیکن اپنی ماں کی مالی طور پر امداد نہیں کرتے، میری دادی کو پینشن میں کافی رقم ملتی ہے، جو ان کی صحت کے مسائل کے لیے آمدنی کا واحد ذریعہ ہے، اب ان کے بیٹے چاہتے ہیں کہ یہ آمدنی بھی ان کی ہوجائے، میری رہنمائی کیجئے، جزاک اللہ خیراً ۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو اس کے چچاؤں کا والدہ کی خدمت اور مالی امداد کرنے کے بجائے ان کی معمولی پینشن جو ان کا سہارا ہے اس کو بھی چھینے کی کوشش کرنا بہت بڑی بے مروتی کی بات ہے ، جو ان کے لیےنامناسب ہے اس لیے انہیں چاہیے کہ والدہ کےساتھ اس بڑھاپے اور کمزوری میں تعاون کریں ان کی خدمت کو سعادت سمجھیں، البتہ اگر والدہ اپنی مرضی سے اپنے بیٹوں میں سے کسی کو کچھ دینا چاہے، تو اس کا انہیں اختیار ہے۔
وفی الدالمختار: لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته إلا في مسائل مذكورة في الأشباه. الخ (6/200)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله إلا في مسائل مذكورة في الأشباه) الأولى: يجوز للولد والوالد الشراء من مال المريض ما يحتاج إليه المريض بلا إذنه، ولا يجوز في المتاع الخ (6/200)۔