السلام علیکم! مجھے کافی عرصہ سے ایک مسئلہ ہے یا سمجھ لیں بچپن سے، میں جب بھی کسی لڑکی سے بات کرتا ہوں یا اپنی بیوی سے جب بھی موبائل پے یا ساتھ تو میرے کپڑے خراب ہو جاتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ کسی نے پانی ڈال دیا ہو پینٹ پے، پانی اتنا زیادہ نکلتا ہے کہ پینٹ، شرٹ دونوں خراب ہو جاتے ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ یا ہر بار مجھے غسل کرنا ہوگا؟
مذکور پانی اگر کود کر دفق کے ساتھ نکلتا ہو اور اس کے بعد شہوت ختم ہو جاتی ہو تو اس صورت میں سائل کو ہر مرتبہ غسل کر کے کپڑے پاک کر کے نماز پڑھنا لازم ہے، تاہم اگر یہ پانی بلا دفق نکلتا ہو تو اس سے صرف وضو ٹوٹ جاتا ہے اور کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں، اس لیے فقط کپڑوں اور جسم کو پاک کر کے وضو کے بعد نماز پڑھ سکتے ہیں، غسل اس صورت میں واجب نہیں۔
ففی الدر المختار: (لا) عند (مذي أو ودي) بل الوضوء منه ومن البول جميعا على الظاهر اھ (1/ 165)
وفی البحر الرائق: ولا یجب الغسل اتفاقاً فیما إذا تیقن أنه ودی اھ (۱/ ۵۹)
وفی العنایة شرح الهدایة: وقوله علیه الصلاة والسلام ’’إنما الماء من الماء‘‘ ولا خلاق فی وجوب الغسل بسبب خروج المنی اھ (۱/۴۶)