میں نے اور میری بیوی نے1996ء میں حج کیا تھا ، اور اب میری بیوی کا 12 مئی 2014 کو انتقال ہو گیا ہے ، اور میں اس کے نام پر کسی سے حجِ بدل کروانا چاہتا ہوں ، شریعت میں یہ جائزہے ؟
سائل اور اسکی بیوی نے جب حجِ فرض ادا کر لیا تھا تو فرض ان کے ذمہ سے اتر گیا ہے ، اب بیوی کی طرف سے نفلی حج کروا کر اس کا ثواب مرحومہ کو پہنچایا جا سکتا ہے۔
کما فی الہندیة: الأصل في هذا الباب أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة كان أو صوما أو صدقة أو غيرها كالحج وقراءة القرآن والأذكار وزيارة قبور الأنبياء - عليهم الصلاة والسلام – والشهداء والأولياء والصالحين وتكفين الموتى وجميع أنواع البر، كذا في غاية السروجي شرح الهداية اھ (1/257)۔