نکاح

شیعہ لڑکی سے نکاح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
2180
| تاریخ :
2020-10-26
معاملات / احکام نکاح / نکاح

شیعہ لڑکی سے نکاح کرنے کا حکم

السلام علیکم!
کیا میں ایک شیعہ لڑکی کے ساتھ شادی کر سکتا ہوں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ کیا شیعہ مسلم ہیں؟ اکثر لوگ کہتے ہیں شیعہ مسلمان نہیں ہیں، کیا یہ صحیح ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شیعہ کے مختلف فرقے ہیں اور ہر فرقہ کے عقائد ونظریات بھی مختلف ہیں۔ اس لیے شیعہ کو کافر قرار دینے اور ان کے ساتھ مناکحت وغیرہ اختیار کرنے کے بارے میں تفصیل ہے۔ وہ یہ ہے کہ جس شیعہ کے عقائد و نظریات یہ ہوں مثلاًحضرت علی کو خدا مانتا ہو یا قرآنِ کریم میں تحریف کا قائل ہو، یا جبرائیل  کے وحی لانے میں غلطی کرنے کا عقیدہ رکھتا ہو، یا حضرت عائشہ پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا مانتا ہو، یا حضرت ابو بکر صدیق کی صحابیت کا منکر ہو، یا اس قسم کا کوئی دوسرا قرآنِ کریم کے صریح امر کے مخالف کفریہ عقیدہ رکھتے ہو، تو وہ بلاشبہ کافر ہیں۔ اور ایسے عقائد کے حامل شیعہ مرد سے سنی العقیدہ خاتون کا نکاح جائز نہیں، جبکہ شیعہ لڑکی سے کسی بھی سنی لڑکی العقیدہ مرد کا نکاح اگرچہ درست ہے اور اس کی گنجائش ہے، مگر پیدا ہونے ولایی اولاد اور گھر کے ماحول کے خراب ہونے میں کسی قسم کا سبہ نہیں۔ اس لیے سنی العقیدہ مرد کو بھی کسی شیعہ لڑکی کے ساتھ عقدِ نکاح کرنے سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی حاشية ابن عابدين: نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن اھ(4/ 237)
وفیه أیضاً: وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر اھ(3/ 46)
وفی الفتاوى الهندية: الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما والعياذ بالله، فهو كافر، وإن كان يفضل عليا كرم الله تعالى وجهه على أبي بكر -رضي الله تعالى عنه- لا يكون كافرا إلا أنه مبتدع والمعتزلي مبتدع إلا إذا قال باستحالة الرؤية، فحينئذ هو كافر كذا في الخلاصة. ولو قذف عائشة -رضي الله تعالى عنها- بالزنا كفر بالله، (إلی قوله) من أنكر إمامة أبي بكر الصديق -رضي الله عنه-، فهو كافر، وعلى قول بعضهم هو مبتدع وليس بكافر والصحيح أنه كافر، وكذلك من أنكر خلافة عمر -رضي الله عنه- في أصح الأقوال كذا في الظهيرية. (2/ 264) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد احمد خلیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 2180کی تصدیق کریں
0     3828
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات