حج کے دوران عورت کو حیض آجائے تو اُسے تمام ارکانِ حج کیسے ادا کریں ؟ طواف وغیرہ اور احرام کی پابندی کیسے ختم ہوگی جب وہ طواف نہ کر سکے ؟
حج کے دوران اگر عورت کے ایّامِ حیض شروع ہو جائیں تو وہ سوائے طواف کے باقی تمام ارکان ادا کر سکتی ہے، البتہ آخر میں عورت اگر طواف زیارت سے پہلے پاک نہ ہوئی تو طوافِ زیارتکو مؤخر کرے اور پاک ہونے پر طواف زیارت کرے، اس سے پہلے وہ شوہر کے لیے حلال نہیں ہوگی ۔
کما فی الرد تحت : (قوله لا يمنع نسكا) أي شيئا من أعمال الحج (قوله إلا الطواف) فهو حرام من وجهين دخولها المسجد وترك واجب الطهارة. .[تنبيه]قدمنا عن المحيط أن تقديم الطواف شرط صحة السعي، فعن هذا قال القهستاني: فلو حاضت قبل الإحرام اغتسلت وأحرمت وشهدت جميع المناسك إلا الطواف والسعي اهـ أي لأنسعيها بدون طواف غير صحيح اھ (3/87)۔