عرض ہے والد کے احکام، مثلاً تنخواہ کا ایک مخصوص حصہ ماہا نہ دینا یا اور خرچوں کے لیے کبھی کبھی رقم دینا ، لیکن اس لیے ان کے حکم کی تعمیل نہ کی جائے وہ مجھے جائیداد سے عاق کرنے کی دھمکی دیتے ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ میری والدہ کو بچپن میں طلاق دے دی تھی، میں ان سے تعلق رکھتا ہوں اور ان کی دوسری جگہ شادی بھی ہو گئی تھی ۔ والد صاحب کہتے ہیں کہ وہ تم کو میرے خلاف بھڑکاتی ہے ،لہذا میں تم کو اس سے ملنے کی اجازت نہیں دیتا، اور اس نے آگے نکاح بھی کر لیا، لہذا میں تمہیں اس کی خدمت کی اجازت بھی نہیں دیتا، اور اپنے سسرال والوں کے ساتھ والد صاحب کی مرضی کے مطابق معاملات نہ کرنا وغیرہ ۔ والد صاحب کو رقم نہ دینے کی دو وجہیں ہیں (1) جلد از جلد پیسے جمع کر کے اپنا گھر تیار کرنا تاکہ کرا یہ دینے سے بچا جا سکے اور اس میں بے پردگی کا بھی غالب امکان ہے۔ (۲) وجہ یہ ہے کہ میں اپنی دنیاوی تعلیم مکمل کروں تاکہ مزید حلال رزق کمانے کی کوشش کروں ، پھر میں دونوں کی خدمت کروں گا اور والدہ کی ایسے طریقہ سے کہ والد صاحب کو اعتراض بھی نہ ہو اور والدہ بھی برا نہ سمجھیں، والدین کے مشیر جب ایسے لوگ جن کو وہ اپنی اولاد کا خیر خواہ سمجھتے ہوں، لیکن وہ ایسے ہوں نہ ۔راہ نمائی فرمائیں کہ والد صاحب جیسا کہتے ہیں ویسا ہی کرتا رہوں یا اُوپر والے مقاصد کی تکمیل تک ناراضگی مول لے لوں؟
جائز امور میں والدین کی اطاعت ضروری ہے۔ لہذا سائل کو چاہیئے کہ اپنے مذکورہ دونوں مقاصد کے حصول کی کوشش وسعی کے ساتھ اپنے والدین کی جائز امور میں اطاعت، ممکنہ خدمت اور دلجوئی ضرور کرے، ان کی ناراضگی اور دل آزاری سے حتی المقدور بچنے کی کوشش کرے، اور موقع بموقع اُن سے مشاورت کرے۔ اور والدین کو بھی چاہیئے کہ اُسے ناجائز امور اور دوسرے کی نافرمانی پر مجبور نہ کریں۔
وقال الله تعالى : {وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا } [العنكبوت: 8]
و في مشكاة المصابيح: وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «رضي الرب في رضى الوالد وسخط الرب في سخط الوالد» . رواه الترمذي اھ (3/ 1379)
و في مشكاة المصابيح: وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: [ص:1086] «السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أحب وأكره ما لم يؤمر بمعصية فإذا أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة» متفق عليه اھ (2/ 1085) واللہ اعلم بالصواب