گناہ و ناجائز

تعزیر مالی(مالی جرمانے)کا حکم

فتوی نمبر :
19684
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

تعزیر مالی(مالی جرمانے)کا حکم

مفتی صاحب ! مجھے یہ جاننا ہے کہ پیسوں کے ذریعے جرمانہ لگانا کیسا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

عند الاحناف تعزير مالی (مالی جرمانہ) جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے ۔ فقط

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (لا بأخذ مال في المذهب) بحر. وفيه عن البزازية: وقيل يجوز، ومعناه أن يمسكه مدة لينزجر ثم يعيده له، فإن أيس من توبته صرفه إلى ما يرى. و في المجتبى أنه كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. (4/ 61) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رزیق حمید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 19684کی تصدیق کریں
0     839
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات