(1)حج بدل کروانے کے لئے کن شرائط کا ہونا ضروری ہے؟
(2) کیا صاحبِ استطاعت شخص کو جس نے خود حج فرض ادا نہ کیا ہو اس کو حج بدل پر بھیجا جا سکتا ہے ؟
(3) کیا صرف اس کو ہی حج ِبدل پر بھیجنا ہوگا جس نے پہلے حج کیا ہو ؟
(4) کیا ایسے شخص کو جو صاحبِ استطاعت نہ ہو وہ اگر حجِ بدل پر جائے تو حج کرنے کا ثواب اس کو بھی حاصل ہوگا جو حج کر رہا ہے اور اس کا حج فرض ادا ہو جائےگایا اس پر صاحبِ استطاعت ہونے کے بعددوبارہ حج ِ فرض ادا کرنا ہوگا ؟
حجِ بدل کے لئے ایسے شخص کو بھیجنا مستحب ہے جس نے پہلے اپنا حج کیا ہو ،تاہم اگر ایسے شخص کو حج ِبدل کے لئےبھیج دیا جائے جس نے حج نہ کیا ہو تب بھی حجِ بدل ادا ہو جائے گا ،اور حج کرنے والے کو بھی ثواب ملے گا ،جبکہ ایسے شخص پر صاحب ِاستطاعت ہونے کے بعد اپنا حج کرنا لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: (فجاز حج الضرورة ) بمهلة : من لم یحج (و المرأة ) ولوامة (والعبد وغيره ) كالمراهق وغيرهمأعلى لعدم الخلاف ( ولو أمر ذميا ) أومجنونا اھ۔
وفی الرد تحت : قوله (وذكر في البدائع كراهة احجاج الضرورة) لأنه تارك فرض الحج ثم قال في الفتح بعد ما أطال في الاستدلال والذي یقتضيہ النظر أن حج الضرورة عن الغير انكان بعد تحقق الوجوب عليه بملك الزاد والرابطة و الصحۃ فھو مکروہ کراہۃ تحریم لانہ تضیق علیہ فی اول سنی الامکان فیأثم بترکہ اھ (2/603)۔