ہمارے پاس حج انتخابی اسکیم کے لیے ایک سہولت ہے ،یہاں پر جس آدمی کو چنا جاتا ہے کمپنی اس کےتمام اخراجات ادا کرتی ہے، میرا سوال یہ ہے کہ اگر ایک شخص کے پاس اتنی مالیت ہے کہ وہ اپنا حج خود ادا کر سکتا ہے لیکن انتخابی اسکیم سے پہلے وہ کوئی حج ادا ہی نہیں کرتا تو کیایہ حج فرض کہلائے گا یا حجِ نفل ؟
جو شخص با وجود استطاعت رکھنے کے اپنا حج خود نہ کرے ،بلکہ کمپنی کی اسکیم کے تحت حج کرے تب بھی اسکا فرض حج ادا ہو جائے گا، اسلیے اسے چاہیئے کہ اپنے ذمہ فرض حج کی ادائیگی کی ہی نیت سے جائے۔
کما فی الرد : فی اللباب: الفقير الآفاقي إذا وصل إلى ميقات فهو كالمكي (الی قوله ) وينبغي أن يكون الغني الآفاقي كذلك إذا عدم الركوب بعد وصوله إلى أحد المواقيت فالتقييد بالفقير لظهور عجزه عن المركب، وليفی د أنه يتعين عليه أن لا ينوي نفلا على زعم أنه لا يجب عليه لفقره لأنه ما كان واجبا وهو آفاقي فلما صار كالمكي وجب عليه فلو نواه نفلا لزمه الحج ثانيا. اهـ.ملخصا ونظيره ما سنذكره فی باب الحج عن الغير من أن المأمور بالحج إذا واصل إلى مكة لزمه أن يمكث ليحج حج الفرض عن نفسه، لكونه صار قادرا على ما فی ه اھ (2/460)۔