السلام علیکم!
میں یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ایک آدمی کے بچوں کی شادی اس عورت کے بچوں کیسا تھ ہو سکتی ہے جس کو اس نے عرصۂ دراز پہلے شہوت سے صرف چھوا ہو اور زنا نہ کیا ہو؟ نیز اگر زنا کیا ہو تو پھر بھی شادی ہو سکتی ہے یا نہیں؟ جواب دے کر رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں بہر دو صورت ان دونوں (مرد و عورت) کی اولاد کا با ہم عقد نکاح اگرچہ جائز اور درست ہے لیکن اس نکاح کی وجہ سے اگر زانی و مزنیہ کے درمیان دوبارہ پرانے تعلقات بحال ہونے اور قربت کی وجہ سے فتنے کا اندیشہ ہو تو اس رشتہ و عقدِ نکاح سے احتراز کیا جائے ۔
کما فی رد المحتار: (قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها۔اھ (3/ 32)