نکاح

دیوبندی لڑکی کا بریلوی لڑکے سے نکاح کرنا

فتوی نمبر :
18118
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

دیوبندی لڑکی کا بریلوی لڑکے سے نکاح کرنا

ہم دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں، کیا ہم اپنی بچی کا نکاح بریلوی مکتبِ ِفکر کے لڑکے کیسا تھ کر سکتے ہیں؟ وہ لڑکا دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہے، اور تعلیم یافتہ بھی ہے، نیز ان کے گھر میں میلاد و غیرہ بھی منایا جاتا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بریلوی بھی سنی اور اہلِ سنت والجماعت سے متعلق ہیں، ان کے ساتھ عقدِ نکاح جائز ہے مگر وہ عموماً بدعات و رسومات کے پابند ہوتے ہیں، اسلئے بعد کی ناچاقیوں سے بچنے کیلئے اگر اس عقدِ نکاح سے اجتناب اور کسی متبع ِسنت کیساتھ عقد کیا جائے تو بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في بدائع الصنائع: ومنها إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا۔اھ (2/271 )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 18118کی تصدیق کریں
0     708
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات