ٹرین میں سفر کرتے وقت نیند کی حالت میں اگر کوئی ناپاک ہوجائے اور صبح کی نماز کا وقت بھی ہوگیا تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیۓ؟
اس طرح دورانِ سفر ٹرین وغیرہ میں احتلام ہو کر غسل لازم ہوجانے کی صورت میں اگر اپنے پاس یا ٹرین میں پانی کا انتظام ہو تو ادائیگیِ نماز سے قبل غسل لازم ہے ، اور اگر پانی نہ ہو یا دورانِ سفر اس کا استعمال صحت کیلۓ نقصان دہ ہو ، اور اس سے بیمار ہوجانے یا بیماری کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو اور نماز کا وقت بھی ختم ہونے کو ہو ، تو پھر غسل کی بجائے محض تیمم کرکے نماز ادا کرلی جائے اور ناپاک کپڑے بھی تبدیل کرلیے جائیں۔
فی الهدایة : و من لم یجد الماء و هو مسافر او خارج المصر بینه و بین المصر میل او اكثر یتیمم بالصعید لقوله تعالٰی فلم تجدوا ماء فیتمموا صعیدا طیبا و قوله علیه السلام التراب طهور المسلم و لو الی عشر حجج مالم یجد الماء و المیل هو المختار فی المقدار اھ (1/39)۔
و في الاختيار لتعليل المختار : من لم يقدر على استعمال الماء لبعده ميلاً أو لمرض أو برد أو خوف عدو أو عطش أو عدم آلة ، يتيمم بما كان من أجزاء الأرض كالتراب و الرمل و الجص و الكحل و لا بد فيه من الطهارة و النية اھ (ج 1 ص 2)