اگر ایک آدمی کی ٹوٹل جائیداد حرام ہے اور اس کا باپ مر چکا ہے ، تو اس کا بیٹا اپنےباپ کے لیے کسی مولوی کو پیسے دے کر حج کے لیے بھیج سکتا ہے ؟
مالِ حرام کے ذریعہ کیا گیا حج قبول نہیں ہوتا ، اس لیے اگر مرحوم کا بیٹا والد کو حج کا ثواب پہنچانا چاہتا ہو تو اُسے چاہیے کہ اپنے جائز اور حلال مال سے کسی عالم وغیرہ کو عمرہ یا حج کروا کر اس کا ثو اب والد مرحوم کو بخش دے ،چنانچہ اس طرح کرنے سے مرحوم کو ثو اب بھی پہنچے گا اور اُسے اُخروی فائدہ بھی ہوگا۔
کما فی الرد تحت : (قوله كالحج بمال حرام) كذا في البحر والأولى التمثيل بالحج رياء وسمعة، فقد يقال إن الحج نفسه الذي هو زيارة مكان مخصوص إلخ ليس حراما بل الحرام هو إنفاق المال الحرام، ولا تلازم بينهما، كما أن الصلاة في الأرض المغصوبة تقع فرضا، وهنا كذلك فإن الحج في نفسه مأمور به، وإنما يحرم من حيث الإنفاق، (الی قوله ) ولذا قال في البحر ويجتهد في تحصيل نفقة حلال، فإنه لا يقبل بالنفقة الحرام كما ورد في الحديث، مع أنه يسقط الفرض عنه معها ولا تنافي بين سقوطه، وعدم قبوله فلا يثاب لعدم القبول، اھ (2/456)۔